طیّارہ بردار جہاز

طیّارہ بردار جہاز
طیّارہ بردار جہاز
یو ایس ایس رونلڈ ریگن ایک 1,092 فٹ لمبا، 6 بلین ڈالر کا طیّارہ بردار بحری جنگی جہاز ہے جو دو ایٹمی ری ایکٹروں سے چلتا ہے۔ یہ زمرہ نِمِٹز کا جہاز ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق، اس جسامت کے باوجود، یہ 30 ناٹ (بحری میل) فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے سفر کر سکتا ہے۔ (ایک زمینی میل میں قریباً 1.5 بحری میل ہوتے ہیں)
اس جہاز کا نام 1981 سے 1989 تک رہنے والے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر رونلڈ ریگن کے اعزاز میں رکھا گیا ہے۔ اسے ریاستِ ورجینیا کے نیو پورٹ جہاز سازی کے کارخانے میں تیارکر کے 12 جولائی 2003 کو ’مکمل‘ کی سند دی گئی۔
ہر نِمِٹز زمرے کے طیّارہ بردار بحری جہاز پر 60 سے زیادہ جنگی طیّارے آسکتے ہیں۔ اِن میں لڑاکا طیّارے، آبدوز شکن طیّارے، ہیلی کاپٹر اور جاسوس طیّارے شامل ہیں۔ لیکن یہ فہرست محض اِن تک ہی محدود نہیں! اِن طیّارہ بردار جہازوں کا عملہ 3,000 افراد سے زیادہ ہوتا ہے جو کم و بیش ایک چھوٹے شہر کی آبادی سے زیادہ ہے۔ نِمِٹز طیّارہ بردار بحری جہاز بیک وقت ایک 97,000 ٹن وزنی قلعہ، ایک چھوٹا شہر اور سمندر کے بیچوں بیچ ایک ہوائی اڈّہ بھی ہے۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ ہر ایک طیّارہ بردار جہاز کے ساتھ کئی جہاز چلتے ہیں جنہیں ’(اُس) طیّارہ بردار کا لڑاکا جتھا‘ کہا جاتا ہے۔ البتہ ہر طیّارہ بردار کے جتھے کی ساخت اپنی مہم کے حساب سے الگ ہوتی ہے۔ بعض کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ ایسے ایک جتھے میں ایک تو خاص طیّارہ بردار جہاز ہوتا ہے. جسے کوئی خطاب یا نام دیا گیا ہوتا ہے؛ دو گائیِڈڈ (رہ نمودہ) میزائل بردار جہاز؛ طیّارہ شِکن توپوں سے لیس دو جہاز؛ اور آبدوزوں سے نبٹنے کے لئے ایک یا دو جہاز مختص کر دیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات بڑی بحری مشقوں کے لئے ایک طیّارہ بردار دوسرے طیّارہ برداروں کے ساتھ مل کر ایک بڑی طاقت کا مظاہرہ بھی کرتا ہے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے پاس 11 طیّارہ بردار جہاز ہیں جو دنیا کا سب سے بڑا ایسا بیڑا ہے۔ اس کے بعد عوامی جمہوریہ چین، بھارت، اٹلی اور برطانیہ کا نمبر ہے جن کے پاس یہ دو دو ہیں۔ فرانس اور روس کے پاس ایک ایک طیّارہ بردار بحری جہاز ہے۔
آجکل عوامی جمہوریہ چین اپنے طیّارہ بردار جہازوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ 2024 میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی بحریہ کے پاس ” لیائوننگ “ اور ”شین ڈونگ“ نامی دو فعال طیّارہ بردار جہاز ہیں۔ ان کا تیسرا جہاز ”فوزیان“ فی الحال آزمائشوں سے گزر رہا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کا ایک چوتھا طیّارہ بردار جہاز 004 طرز کا بھی ہے جو طیار برداروں کی نئی نسل سے ہے۔

-

تبصرہ آپ کا
ﺗﺑﺻره آﭘﮑﺎ