گرین لینڈ

گرین لینڈ

گرین لینڈ

گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ یہاں تقریباً چھپّن ہزار افراد آباد ہیں۔ اگرچہ یہ سلطنتِ ڈنمارک کا حصّہ ہے لیکن نظامِ حکومت گرین لینڈ کا اپنا ہے۔
گرین لینڈ کا زیادہ تر حصّہ دائرۂ قطبِ شمالی کے شمال میں واقع ہے۔ اس کا کل رقبہ 21,66,086 مربّع کلومیٹر ہے (جس میں چھوٹے جزائر بھی شامل ہیں)، جس میں سے 17,55,637 مربّع کلومیٹر حصّہ برف کی چادر سے مستقل ڈھکا رہتا ہے، یعنی تقریباً 81 فیصد۔ یہاں موجود برف کا مجموعی حجم تقریباً 28,50,000 مکعب کلومیٹر ہے۔ گرین لینڈ کی بلند ترین چوٹی گنبیورن فیالڈ ہے جس کی بلندی 3,700 میٹر ہے۔
گرین لینڈ کے شمال میں بحرِ منجمد شمالی، مشرق میں بحرِ گرین لینڈ، جنوب مشرق میں شمالی بحرِ اوقیانوس، جنوب مغرب میں آبنائے ڈیوس، مغرب میں بیفن بے، اور شمال مغرب میں نیریز آبنائے اور لنکن سمندر واقع ہیں۔
قریب ترین ممالک میں ایک تو کینیڈا ہے، جس کے ساتھ گرین لینڈ کی مغرب اور جنوب مغرب میں بحری سرحد اور ہانس جزیرہ پر زمینی سرحد ہے، جبکہ دوسرا قریبی ملک آئس لینڈ ہے جو جنوب مشرق میں واقع ہے۔
ایک تین کلومیٹر موٹی برف کی چادر گرین لینڈ کو ڈھانپے رہتی ہے، اس چادر کا وزن اتنا زیادہ ہے کہ اس کی وجہ سے گرین لینڈ کی زمین دب کر سطح سمندر سے نیچے ہو گئی ہے۔
گرین لینڈ کی آب و ہوا ٹنڈرا والی ہے، (ٹنڈرا آب و ہوا یعنی قطبی آب و ہوا)۔ اندرون ملک ہر وقت برف پوش رہتا ہے، وہاں درجہٴ حرارت 0 سینٹی گریڈ یا اس سے کم ہی رہتا ہے۔
اگر ہم دارالحکومت نُک کا ذکر کریں تو یہاں موسم گرما عام طور پر ٹھنڈا اور مختصر، جبکہ سردیاں اعتدال کی ہوتی ہیں۔ گرمیوں میں بھی اس کا درجہٴ حرارت اتنا کم رہتا ہے کہ یہاں ہریالی دیکھنے کو نہیں ملتی۔
گرین لینڈ کے برف سے پاک علاقوں میں تقریباً 57ہزار افراد آباد ہیں۔
آبادی کے لحاظ سے، مقامی انیوئٹ یہاں 89.5 فیصد، ڈینش 7.5 فیصد، باقی چھوٹی چھوٹی اقلیتیں ہیں۔
گرین لینڈ کے اصلی لوگ انیوئٹ ہیں۔ یہ لوگ یہیں نہیں بلکہ الاسکا، کینیڈا، اور روس کے قطبی علاقوں میں بھی زمانہٴ قدیم سے بس رہے ہیں۔
انیوئٹ اصل میں ٹُولی لوگوں کی اولاد ہیں۔ ٹُولی وہ لوگ تھے جو روس سے براستہ پُل بیرنگ اس پار ہجرت کر کے شمالی امریکہ اور اس کے اطراف کے ممالک پہنچے، یہاں شدید سرد موسم سے مطابقت پیدا کی۔ یہی لوگ اسکیمو ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو اسکیمو کہلانا پسند نہیں کرتے۔ انوئٹ گرین لینڈ کی آبادی کا تقریباً 90 فیصد ہیں۔ دیگر ڈینش، نارڈک اور دوسرے ہیں۔
ٹُولی لوگوں نے تقریباً 2,700 اور4,900 سال کے آبنائے بیرنگ عبور کی تھی۔ یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ ہماری موہنجوداڑو کی تہذیب بھی تقریباً 4,500 سے 5,000 سال قدیم ہے۔
گرین لینڈ کے نام کی وجہ تسمیہ بھی خاصی دلچسپ ہے۔ ناروے کے ایک شخص ایرک کو آئس لینڈ سے جلا وطن کر دیا گیا تھا۔ وہ اپنے جہازوں پر سوار ہو کر ایک برفیلے علاقے میں پہنچا اور وہاں اس نے پناہ لی۔ اس نے لوگوں کو وہاں آباد ہونے کی ترغیب دینے کے لیے اس جگہ کا نام گروٴن لین رکھا، جس کا مطلب ڈینش زبان میں سبز زمین ہوتا ہے۔
گرین لینڈ کی بنیادی معاشی سرگرمی ماہی گیری ہے۔ اس کے علاوہ اسے ڈنمارک کی جانب سے بھاری مالی امداد بھی ملتی ہے، جو اس کی مجموعی آمدنی کا تقریباً ایک تہائی حصّہ بنتی ہے۔
گرین لینڈ 1721 میں ڈینش اقتدار کے تحت آیا، جب ڈنمارک-ناروے (جو 1814 تک ایک ہی بادشاہ کے تحت تھے) نے ایک مذہبی مشنری (مبلغین کی) مہم گرین لینڈ بھیجی۔ اس مہم نے انوئٹ لوگوں کو عیسائیت میں داخل کیا گیا۔ بعد ازاں ڈنمارک-ناروے نے ساحلی علاقوں میں تجارتی نوآبادیات قائم کیں اور یہاں تجارتی اجارہ داری اور دیگر نوآبادیاتی مراعات نافذ کیں۔ تب سے گرین لینڈ ڈنمارک کے زیرِ اقتدار ہے۔

-

تبصرہ آپ کا
ﺗﺑﺻره آﭘﮑﺎ