بمباری؟ جی نہیں ریاح کاری، چند حقائق

بمباری؟ جی نہیں ریاح کاری، چند حقائق
بمباری؟ جی نہیں ریاح کاری، چند حقائق

ہم یہاں ریاح کا ہی ذکر کریں گے لیکن مختصراً ڈکار کا بھی کہ وہ بھی ایک ہوا ہے اور وہ بھی ہمارے پیٹ سے خارج ہوتی ہے۔ کسی زمانے میں مشرقی معاشروں میں کھانے کے بعد ڈکار لینا اچھا سمجھا جاتا تھا، کہ کھانے والے نے کھانے کو پسند کیا ہے۔ جبکہ جاپان، شمالی امریکہ اور یورپ میں کھانے کے دوران ڈکار لینا ایک معیوب بات تھی۔ البتہ انگلستان میں شاہ ہنری ہفتم کے زمانے میں کھانے کے بعد بلند آواز ڈکار لینا خاصہ پسندیدہ فعل سمجھا جاتا تھا۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ بدبو دار ہوا جسے ہم ریاح، ریح، پاد یا گوز کہتے ہیں اس کے متعلق معلومات کیا ہیں۔ (خیال رہے کہ پاد مذکر ہے اور ریاح موٴنث) پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ریاح صحت کے لیے اچّھی چیز ہے گو ہم ایسے شخص کو جو یہ کرے تو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں، اگرچہ ہم سب ہی یہ وقتاً فوقتاً ضرور کرتے ہی رہتے ہیں۔ بعض اسے برا سمجھتے ہیں یہاں تک کہ قدیم روم میں بیچ مجمع میں کسی ک ریاح خارج کرنا غیر قانونی تھا۔ بتائیں اچّھا خاصہ شریف آدمی تھانے پہنچ جائے، اور کہتا جائےاسے کیسے روکوں جو رکے نہ رکے۔
ہم مسلمان بھی اس اخراجِ باد کو وضو ٹوٹنے کا باعث سمجھتے ہیں، گو بہت برا نہیں سمجھتے۔ اس سلسلے میں جو محاورہ کہا جاتا ہے وہ ہے گُوز پَرگُوز، وُضُو پَر وُضُو: یعنی مکار آدمی بار بار گناہ کرتا ہے اور پھر معافی مانگتا ہے۔ ریاح سے متعلق بہت سے لطیفے مشہور ہیں لیکن صرف ذاتی اجتماع میں ہی سنائے جاتے ہیں، وہ بعد میں، پہلے دیکھتے ہیں کہ ریاح کیا ہے اور ان ہوا کے بلبلوں جو ہم سب انسان اور جانور خارج کرتے ہیں سے متعلق کیا حقائق ہیں، دیکھتے ہیں۔
آپ کی جنس، عمر اور قومیت جو بھی ہو، ہم میں ایک چیز مشترک ہے کہ ہم پاد مارتے ہیں۔ اگرچہ اخراج باد بہت سی تہذیبوں میں مکروہ قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ اچھی صحت کے لئے ضروری ہے۔ آئیں ان آنتوں کی ہوا سے متعلق جن باتوں کا جاننا ضروری ہے ان پر ایک نظر ڈالیں۔
بہت سے صحتمند افراد کو تشویش رہتی ہے کہ ان کی آنتوں میں ہوا کی زیادتی ہے ، ان کے خیال میں ان کے ہاضمہ کی نالیوں میں کچھ خرابی ہے۔ اگرچہ یہ ہوا بذات خود خطرناک نہیں ہے لیکن ہماری اسے نہ روک سکنے کی صلاحیت کچھ معاشرتی ردِ عمل بناتی ہے۔
دن بھر میں کوئی 25 مرتبہ
ایک عام انسان دن بھر میں 12 سے 25 مرتبہ ہوا خارج کرتا ہے۔ اگرچہ آپ کے خیال میں آپ روزانہ اتنی دفعہ ہوا خارج نہیں کرتے تو حقیقت یہ ہے کہ آپ کو اپنے متعلق آگاہی نہیں ہے۔ حقیقت میں اخراج باد دن اور رات کے ہر گھنٹے میں وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ جی ہاں، ہم سوتے میں بھی ایسا کرتے ہیں۔
روزانہ 1.5 لٹر
لوگ روزانہ 0.5 سے 1.5 لٹر (0.13 اور 0.39 گیلن ) تک ہوا اپنے معدے سے خارج کرتے ہیں، جو کہ سالانہ 182.5 سے 547.5 لٹر (48 سے 145 گیلن) ہوا کے برابر ہے۔ یہ ایک چھوٹے حوض کو بھرنے کے لیے کافی ہے۔
کم ہی بدبودار ہوتے ہیں
عوام الناس کی رائے کے خلاف ، انتڑیوں کی ساری ہوا بدبودار نہیں ہوتی۔ حقیقت میں ایک فیصد سے کم ریاح بدبودار ہوتے ہیں۔ باقی اخراجِ باد ناقابل شناخت ہوتا ہے۔
ہائیڈروجن سلفائیڈ
کیمیائی زبان میں ریاح آکسیجن، نائٹروجن، ہائیڈروجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین سے بنتے ہیں۔ ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس سڑھے ہوئے انڈوں کی بدبو پیدا کرتی ہے۔ انسانی ناک اس گیس کو بہت تھوڑی مقدار کے باوجود بھی محسوس کر سکتی ہے۔ پیٹ میں آکسیجن، نائٹروجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ ہوا کو نگلنے سے پہنچی ہیں، جبکہ ہائیڈروجن اور میتھین خوراک کی شکست و ریخت کی وجہ سے بنتی ہیں۔
کھانے کے چھ گھنٹے بعد
کیا آپ کو اخراج باد کا احساس سہہ پہر اور شام کو ہوتا ہے؟ یہ عام بات ہے۔ لیکن اگر پاد دوپہر کے کھانے کے دو سے تین گھنٹوں کے بعد محسوس ہو تو یہ آپ کے ناشتے کی وجہ سے ہوتا ہے دوپہر کے کھانے کی وجہ سے نہیں۔ اگر آپ سونے سے ذرا ہی پہلے کھانا کھائیں تو یقینی طور پر آپ رات کو یا صبح اٹھتے ہی ہوا خارج کرتے ہیں۔
حاملہ خواتین
اخراج باد حاملہ خواتین میں بڑھا ہوا رہتا ہے۔ حمل کی وجہ سے ہارمون کی سطح میں اضافہ سے معدے کی نالیوں کا عمل سست ہو جاتا ہے جو گیس بننےکے لئے نہایت موزوں ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ حاملہ خواتین کا اپنے عضلات پر قابو رکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے انھیں ہوا کو روکنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایروفیگیا) ہوا نگلنا)
ہم سوتے ہوئے ہوا نہیں نگلتے۔ ہر شخص دن بھر میں تھوڑی سی ہوا اپنے اندر لیتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بہت زیادہ ہوا اپنے اندر لینا، نفخ، ڈکار اور ریح کا سبب بنتا ہے؟ آخر کار جمع شدہ ہوا کو جلد یا بدیر کسی نہ کسی طرح جسم سے باہر نکلنا ہے، چاہے منہ سےیا ملاشی (بڑی آنت کا آخری حصّہ) سے۔ ایروفیگیا کی علامات کو گھٹانے کے لئے کھانا آہستہ آہستہ اور ہر لقمہ کو اچھی طرح چبا کر کھانا چاہئے۔
حیض
حیض سے پہلے اور درمیان میں کچھ خواتین معمول سے زیادہ ہوا خارج کرتی ہیں۔ ہارمونز کا اتار چڑھاؤ خصوصی طور پر ایسٹروجن اور پروگیسٹرون اس رجحان کا باعث ہو سکتے ہیں۔
حیض شروع ہونے سے پہلے ، بچہ دانی کے خلیوں کے میوکس کی جھلی پروسٹی گلینڈنس، تیزاب مچرّب (فیٹی ایسڈ)، خارج کرتی ہے جو ہارمونز کی طرح کام کرتا ہے۔ پروسٹی گلینڈنس کی زیادہ مقدار خون میں شامل ہو جاتی ہے، جہاں یہ دوسرے ہموار پٹّھوں کو سکیڑنے کا باعث بنتی ہے۔ خاص طور پر انتڑیوں میں، یہ زیادہ ریاح کا سبب ہوتا ہے۔
چیوئنگم
کیا آپ اکثر چیوئنگم کھاتے ہیں،خاص طورپر کھانے کے بعد ؟ ہو سکتا ہے کہ آپ سانس کی بدبو دور کر رہے ہوں لیکن یہ عادت آپ کے ہاضمہ کو خراب کر تی ہے۔ یہ نہ صرف آپ کے ہوا نگلنے کی مقدار بڑھاتی ہے بلکہ چیوئنگم میں موجود غیر قدرتی مٹھاس کے اجزا بھی گیس پیدا کرتے ہیں ہے۔
نکلنے کا راستہ
گیس ہاضمہ کی نالیوں میں پیدا ہوتی ہے، وہاں سے یا تو منہ کے ذریعے ڈکار کی صورت میں نکلتی ہے یا پھر پیٹ پھولنے سے مقعد کے ذریعے۔ جب یہ مقعد کے ذریعے خارج ہوتی ہے تو یہ عمل کچھ بھی بے آرام نہیں ہوتا۔ جب گیس بڑی آنت میں داخل ہوتی ہے تو اس کے آگے بڑھنے کی رفتار آہستہ ہو جاتی ہے اور آخر کار مقعد اسے تھوڑی تھوڑی مقدار میں خارج کر دیتا ہے۔
رفتار
ایک نظریہ یہ ہے کہ بدبو دار گیس (سکاٹول) جو انسان خارج کرتا ہے وہ 10 فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ اگرچہ حقیقت میں اخراج باد کی رفتار کو ناپنا مشکل ہے۔ کیونکہ ہر ریاح کے لئے، انفرادی طور پر، بہت سے متغیرات ہوتے ہیں جس میں مالیکیول کی ساخت (مثال کے طور پر جو آپ کھاتے ہیں)، درجہٴ حرارت، ہوا کی رفتار، ماحولیاتی رکاوٹیں اور بہت کچھ۔
بیماریوں سے مقابلہ
جب کوئی بہت بدبودار ریاح کرتا ہے تو ہم عام طور پر وہاں سے بھاگ نکلتے ہیں۔ کچھ محقّقین کے خیال میں پاد کی سڑتے ہوئے انڈوں والی بدبو ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس کے باعث ہوتی ہے۔ یہ بذات خود بری نہیں ہے بلکہ حقیقت میں یہ ہمارے خلیوں کی حفاظت کرتی ہے۔ اگرچہ ہائیڈروجن سلفائیڈ سے متعلق سب کچھ ابھی تک سمجھ میں نہیں آیا ہے لیکن سائنسدانوں کے خیال میں یہ گیس ہمیں کینسر، اسٹروک اور دل کے دورے کے خطرات سے بچا سکتی ہے۔
اپنے پاد کی بات ہی کیا ہے
بہت سے لوگوں کو اپنی پاد کی بو بری نہیں لگتی، اگرچہ وہ کافی بدبو دار بھی ہو۔ ایک نظریہ کے مطابق ہم اپنے ریاح کی بو "پسند" کرتے ہیں کیونکہ ہم وقت کے ساتھ اس کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔ (خیال رہے کہ ہر شخص کے پاد کی الگ بو ہوتی ہے)
مزید برآں، ہمیں دوسروں کے اخراج باد کی بو ناگوار گزرتی ہے کیونکہ ہمارا دماغ متلی کرنے والی بو کو ناپسند کرنے سے مشروط ہے، جو ہماری صحت کے لئے خطرہ تصوّر کی جاتی ہے۔
صرف انسان ہی نہیں
صرف انسانوں ہی کی پادنے پر اجارہ داری نہیں ہے۔ اگرچہ پرندے اور ہشت پا (آکٹوپس) نہیں پادتے پر دوسرے جانور اچھی خاصی ہوا خارج کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر گائے کے چار معدے ہوتے ہیں اور وہ 160 سے 320 لٹر (42.3 سے 84.5 گیلن) تک میتھین روزانہ خارج کرتی ہے۔ میتھین ان گیسوں میں سے ایک ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث ہیں۔ مویشی سیّارے کی گرین ہاؤس گیسوں کا 15 فیصد پیدا کرتے ہیں۔
روکو مت، جانے دو!
تصوّر کریں کہ آپ ایک لفٹ میں ہیں اور اچانک آپ کو محسوس ہو کہ آپ کرنے ہی والے ہیں، آپ اسے روکنے کی کوشش کر سکتے ہیں، شاید کامیاب بھی ہو جائیں، لیکن آپ ہمیشہ ایسا نہیں کر سکتے۔ ہوا کے اخراج کو روکنا شکم کے ابھار کا باعث ہوتا ہے جو کہ غیر آرام دہ پیٹ کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔
غیر خارج شدہ گیس آپ کے جسم میں دوبارہ جذب ہو سکتی ہے، جو کہ کچھ دیر بعد آپ کے منہ سے خارج ہوتی ہے ( کوئی ماؤتھ واش شاید کام کرے)۔ اگر دباؤ بہت بڑھ جائے تو آپ بے قابو ریاح کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
دوائیں اور ذہنی دباؤ
کھانا، دوائیں اور ذہنی دباؤ، غذائی مقدار کی فطرت اور تعداد، آنتوں کی حرکت پذیری کو متاثر کر سکتی ہیں۔
سوڈا یا ٹھنڈی بوتل
سوڈا ( کاربونیٹڈ مشروبات) کے شائق حضرات کو اپنے مشروبات کے انتخاب کے متعلق دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر اگر انہیں گیس کا مسئلہ پہلے سے درپیش ہے۔ انتڑی کے بیکٹریا جو ریاح بناتے ہیں انہیں فرکٹوز سے بھرپور کارن کا شربت بہت پسند ہے، اور پتا ہے کیا! کاربونیٹڈ مشروبات میں یہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ویسے دوسرے مشروبات جیسے پھلوں کے ذائقہ والے مشروبات یا پھلوں کے جوس بھی اسی قسم کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
پھل اور سبزیاں
یہ صرف غیر صحت بخش کھانے ہی نہیں ہیں جو اخراج باد کا سبب بنتے ہیں۔ لوبیہ اور سبزیاں جیسے پھول گوبھی وغیرہ بھی، اور ہمارے ہاں تو دالیں ریاح پیدا کرنے کے لئے مشہور ہیں۔ یہ غذا جو شکر اور نشاستہ پر مبنی ہوتی ہے جو انتڑی کے بیکٹریا کو پسند ہیں۔ اس کے علاوہ ریشہ دار غذا جو بڑی آنت میں خمیر بنتے ہیں۔
خواتین آگے ہیں
خواتین وحضرات میں سے کس کا ریاح زیادہ بدبودار ہوتا ہے؟ حقیقت میں خواتین اس مقابلے میں بازی لے جاتی ہیں۔ کیوں؟ سیدھی سی بات ہے کیونکہ ان کے ریاح میں مردوں کی نسبت ہائیڈروجن سلفائیڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، وہ گیس جو سڑے ہوئے انڈوں سے مشابہ ہے۔
مرد بھی پیچھے نہیں
مرد حضرات زیادہ پادنے میں نمبر لے جاتے ہیں۔
ریاح کا حفاطتی غبار
ایک ایسا واقعہ بھی سامنے آیا ہے کہ جس میں کسی نے ریاح خارج کرکے اپنے گرد ایک غبار پیدا کیا، جیسے حفاظتی حصار بنایا جاتا ہے، تاکہ اپنے آپ کو متوقع آفت سے بچائے۔ 1916 میں محققین کے پاس ایک لڑکا آیا جو وقت سے پہلے پیدا ہو گیا تھا اور اپنی ماں سے دو ماہ کی عمر میں الگ کر دیا گیا تھا۔ جب اسے خطرہ محسوس ہوتا تھا تو وہ اپنے آپ کو ریاح کے حفاظتی بادلوں اور جسم کی بو کے حصار میں کر لیتا تھا۔
ادویّات
کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ عام حالات سے زیادہ ریاح خارج کر رہے ہیں؟ آپ کی دوائیں اس اخراج باد کے مسئلے کا سبب ہو سکتی ہیں ۔ بعض ادویّات جیسے آئی بوپروفن، لیگزاٹیوز اور مانع پھپوندی (اینٹی فنگل) ادویّات کچھ اشخاص کی انتڑیوں میں گیس پیدا کر دیتی ہیں۔
کسی بھی نسخہ کی دوائیاں چھوڑنے سے پہلے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
علامت مسائلِ صحت
اگرچہ ریاح ایک بالکل عام بات ہے لیکن کچھ صحت کے مسائل اخراج باد میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر زود رنج آنتوں میں تلازمِ علامات (اریٹیبل باؤل سنڈروم)، لیکٹوز (قندِ شیر) کو برداشت نہ کر سکنا اور سیلیا کی بیماریاں (گلوٹن سے حساسیت)۔ یہ صحت کے مسائل عام طور پر دوسری علامات کے ساتھ ہوتے ہیں جیسے اسہال اور اپھارہ۔
پیداوار کیسے کم کریں
ہاضمہ سے پیدا ہونے والی گیس کو کم کرنے کے لئے چند گیس پیدا کرنے والی غذاوں سے آپ کو بچنے کی ضرورت ہو گی۔
ہاضمہ کے ذریعے پیدا ہونے والی گیس کے عام ذرائع لوبیہ، بند گوبھی، اناج، دودھ، کم کیلوری کے ساتھ میٹھا کرنے والی اشیا، خاص طور پر الکوحل کی چینی جیسے مینیٹول، زائلیٹول اور سوربیٹول۔ کچھ کھانے کی تیاری کے طریقے گیس پیدا کرنے کے اثرات کو کم کرتے ہیں۔ جیسے لوبیہ کو کھا نے سے چار گھنٹے پہلے بھگونا اور انہیں پکانے سے پہلے تازہ پانی سے دھونا۔
کچھ بازاری ادویات بھی مددگار ہو سکتی ہیں اگرچہ یہ ہر ایک پر اثرانداز نہیں ہوتیں۔
خیال رہے کہ اگر آپ اخراج باد کی وجہ سے پریشان ہیں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
کچھ لطیفے
ایک صاحب بتاتے ہیں کہ، ایک باروہ کراچی کی ایک بس میں سفر کر رہے تھے۔ بس کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ اتنے میں کسی صاحب کی ریح خارج ہوئی۔ ایسی بدبو کہ الّلہ کی پناہ، لوگ بے ہوش نہیں ہوئے تو یہ ان ہی کے حوصلے تھے۔ ایک صاحب سے نہ رہا گیا، غصّے سے ابل پڑے، ’دماغ سڑا کے رکھ دیا، اُف دماغ سڑا کے رکھ دیا۔‘ گویا انہوں نے سب کی ترجمانی کر دی۔
ایک اور صاحب نے یہ واقعہ سنایا: ایک دعوت میں جانے کا اتفاق ہوا۔ کھانا کُھلا اور لوگ اُس طرف کو چل دیے، خادم بھی ان کے ساتھ تھا، ہمارے ساتھ ہمارے بڑے بھائی کے بے تکلف اور پُر مزاح دوست بھی ساتھ تھے۔ اچانک ان ہی دوست نے ایک با آوازِ بلند ریح خارج کی۔ ابھی میں ہنسنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ وہ میری ہی طرف گھور گھور کر دیکھنے لگے۔ اب میں پریشان کہ لوگ مجھی کو اصل مجرم سمجھیں گے، بلکہ بہت سوں نے تو سمجھا بھی ہوگا۔
ایک صاحب نے کچھ یہ تفصیل سنائی: وہ کسی کے ہاں موٹر سائیکل پر ملنے گئے۔ موٹرسائکل گلی میں کھڑی کرکے اندر کمرے میں چلے گئے۔ ابھی بات چیت شروع ہی ہوئی تھی کہ لگا کسی نے موٹر سائیکل چالو کردی ہے۔ جلدی سے اٹھے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔ میزبان نے پوچھا کیا مسئلہ ہے، تو انہیں بتایا۔ میزبان کچھ مسکرایا، پھر ایک ہنسی کے ساتھ اس نے کہا کہ اس کے پڑوسی کو گیس کی بیماری ہے، گھر والی کہتی ہیں جب آئے تو گلی میں نکل کر کیا کرو۔
ایک لطیفہ یہ ہے کہ ایک میاں بیوی باغ کی سیر کو گئے۔ سیر کے دوران بیوی نے شوہر سے کہا کہ، ’سنو! میں نے ابھی ایک لمبا لیکن بے آواز چھوڑا ہے۔‘ ان کے میاں نے ان سے عرض کی، ’بیگم، آپ کے آلہٗ سماعت کی بیٹریاں گھر جا کر بدل دوں گا۔‘
اسی طرح: ایک مریض کے معائنے کے دوران ڈاکٹر نے کچھ ناک بنا کر مریض سے پوچھا کہ کیا اسے ریاح بہت آتے ہیں۔ مریض بولا، ڈاکٹر صاحب مجھے ریاح بہت آتے ہیں لیکن کمال یہ ہے کہ سب بے بو۔ ڈاکٹر نے مریض سے کہا کہ جراہی ہوگی۔ مریض نے پوچھا، کیا پیٹ کی؟ ڈاکڑت صاحب بولے، جی نہیں ناک کی۔
ایک پرنسپل صاحب اسکول کے دورے پر نکلے تو دیکھا کہ ایک طالبعلم جماعت کے باہر کھڑا ہنس رہا ہے۔ انہوں نے سختی سے پوچھا کیا بات ہے۔ لڑکے نے بتایا کہ اور اسے کلاس میں نہایت گندی بو والی ریاح دوسری بار چھوڑنے پر کلاس سے باہر کھڑا کر دیا گیا۔ پرنسپل صاحب بولے، ’تو ہنس کیوں رہے ہو۔‘ لڑکے نے عرض کی، ’مجھے تو نکال دیا لیکن اب سب کے سب کلاس میں بیٹھے وہی سونگھ رہے ہیں۔‘

-

تبصرہ آپ کا
ﺗﺑﺻره آﭘﮑﺎ