گندا پانی پولیو پانی

گندا پانی پولیو پانی

پولیو
گندے پانی سے پھیلنے والی بیماری
پاکستان اور افغانستان وہ دو ممالک ہیں جو آج بھی، جبکہ دنیا کی ترقّی عروج پر ہے، پولیو جیسے موزی مرض سے بری طرح سے متاثّر ہیں۔ پاکستان میں پشتونوں کا گھر خیبر پختونخواہ اس بیماری کی لپیٹ میں ہے۔ کہانی کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہاں بہت سے لوگ اُس ویکسین (جُدرین) کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں جو اُن کے بچّوں کو اس بیماری سے بچا سکتی ہے۔ اور وہ اپنے غلط مفروضوں کی بنیاد پر ایسا کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انہیں باقاعدہ آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ اور یہ بھی کہنا چاہیے کہ اس سلسلے میں خود ان کی اپنی تحقیق بھی ان کے بچّوں کا مسقبل بچا سکتی ہے۔
پولیو، جس کا پورا نام پولیومائیلائٹس ہے، گندے پانی سے پھیلنے والی بیماری ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے نلکوں میں آنے والا پانی اتنا صاف نہیں جتنا ہونا چاہیے۔ پائپ کے پانی میں کئی ایک طرح کی آلودگیاں پائی جاتی ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ عوام حکّام سے پینے کے صاف پانی کا مطالبہ کریں تاکہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے جان چھڑائی جا سکے۔ اگر ہم تاریخ میں پیچھے جائیں تو ایک رپورٹ کے مطابق 20ویں صدی کے وسط تک پولیو وائرس تمام دنیا میں پایا جاتا تھا جس سے ہر سال 50 لاکھ سے زائد افراد ہلاک یا مفلوج ہو جاتے تھے۔ اس کا کوئی موثّرعلاج نہیں تھا، بیماری میں اضافہ ہوتا چلا جا رہاتھا۔ اس کے لئے ایک ویکسین کی فوری ضرورت تھی۔
گو 1960 کے بعد سے اس بیماری سے کسی کے مرنے کی اطّلاع نہیں ملی لیکن اس نے اپنے متاثّرین کو لاکھوں کی تعداد میں معذور کر کے چھوڑا۔ اب سب جانتے ہیں کہ لوگوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے، ویکسین! اور صرف ویکسین!
مختلف بیماریوں کے خلاف ویکسین کا استعمال 15ویں صدی سے کیا جا تا رہا ہے۔ اولین ویکسین لوگوں کو چیچک سے محفوظ رکھنے کے لئے تیار کی گئی تھی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ویکسین ہے کیا؟
اس کا آسان جواب یہ ہے کہ ویکسین کسی خاص بیماری کے لیے ایک مادّہ ہے جو اس مخصوص بیماری کے کمزور کئے گئے وائرس پر مبنی ہے۔ جب یہ مادّہ جسم میں داخل کیا جاتا ہے تو ہمارا جسم اُس کمزور وائرس سے نبٹنے کے لئے تیّاری پکڑتا ہے اور اس بیماری کے خلاف قوّتِ مدافعت بڑھ جاتی ہے۔
کوئی کہہ سکتا ہےکہ ہم اپنے ہی جسم کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ ہمارے اندر کوئی دشمن داخل ہو رہا ہے لہٰذا لڑنے کے لئے کمر کس لو۔ لیکن اس سے بہترین کام ہو جاتا ہے۔ ہمیں اس بات کی فہم ہو، تو ہم اسے اللہ کی طرف سے تحفہ سمجھیں گے۔ ایک سچ یہ ہے کہ دیگر ادویّات کے مقابلے میں ویکسین نے زیادہ انسانی جانیں بچائی ہیں۔
پہلی کامیاب پولیو ویکسین ڈاکٹر جوناز سالک نے 1952 سے 1955 کے تین سالوں میں تیّار کی۔ تجربہ کے طور پر ڈاکٹر موصوف نے خود اپنے اور اپنے خاندان کے افراد کو مذکورہ ویکسین کے ٹیکے لگوائے۔ 1954 تک اندازاً 1.3 ملین بچّوں کو آزمائشی طور پر ٹیکے لگائے گئے۔ 1960 میں نامور محقّق البرٹ سبین کے تیار کردہ ، پولیو کے خلاف پلانے والے قطروں کی منظوری دےدی گئی۔ ویکسین کے یہ قطرے منہ سے پلوائے جاتے یا شکر کے ڈلوں پر ڈال کر استعمال ہوتے تھے۔ اِن کا استعمال سب سے پہلے سابقہ سوویّت یونین اور مشرقی یورپ میں کیا گیا۔ چیکوسلواکیہ وہ پہلا ملک ہے جہاں سے پولیو کا مکمل خاتمہ ہوا.
پولیو کا حملہ
پولیو وائرس خاص طور سے حرام مغذ یا دماغ کے اُس حصّہ جو ریڑھ کی ہڈّی سے جڑتا ہے، کو متاثّر کرتا ہے۔ اپنی بد ترین شکل میں پولیو کسی شخص کے کچھ اعضا کو حرکت دینے سے محروم کر سکتا ہے، جسے فالج بھی کہتے ہیں۔ سانس لینے میں مشکل پیش آسکتی ہے اور بعض اوقات موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں ویکسین کی وجہ سے عالمی سطح پر پولیو کے واقعات بہت کم تعداد میں سامنے آئے۔ لیکن پولیو وائرس اب بھی ان علاقوں میں پھیل رہا ہے جہاں ویکسین لگوانے کی شرح کم ہے۔
پولیو کا خطرہ افریقہ، مشرقِ وسطیٰ، جنوبی اور وسطی ایشیا کے ممالک میں بہت بڑھا ہوا ہے۔ واضح ہو کہ ویکسین یافتہ بالغ افراد جو ایسے علاقے میں سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں پولیو پھیل رہا ہو انہیں غیر فعال پولیووائرس ویکسین (ان ایکٹو پولیو وائرس - آئی پی وی) کی بوسٹر (زائد تلقیح) خوراک لینا ضروری ہے۔ بوسٹر کے بعد قوّتِ مدافعت تا حیات رہتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک شخص کو اپنی زندگی میں اس ویکسین کی دو خوراکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

علامات
پولیو وائرس سے متاثّر ہونے والے اکثر لوگوں میں پولیو کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

کچّا پولیو
تقریباً 5 فیصد افراد میں’ابارٹیو پولیومائیلائٹس یا کچّا پولیو‘ (یعنی مرض جو اپنے عروج تک نہیں پہنچا اور جلد ختم ہو گیا) ہوتا ہے۔ اس میں نزلے جیسی علامات ہوتی ہیں جن کا دورانیہ دو سے تین دن کا ہوتا ہے۔ ان میں یہ علامات بھی شامل ہیں: بخار، سر درد، عضلاتی درد، گلے کی سوزش، دردِ شکم، بھوک مرنا، جی متلانا، اور قے آنا۔

بِنا فالج پولیو
یہ اس بیماری کی ایک ذرا زیادہ شدید شکل بِنا فالج پولیو ہے جو متاثّرہ افراد میں سے اندازاً ایک فیصد کو متاثّر کرتا ہے۔ گو کہ بیماری چند روز سے زیادہ رہتی ہے لیکن فالج کا باعث نہیں بنتی۔ شدید نزلے کے ساتھ بنا فالج پولیو میں یہ علامات بھی شامل ہو سکتی ہیں: گردن میں درد یا اکڑن، بازووں یا ٹانگوں میں درد یا کھچاؤ،شدید سر درد۔
علامات کا دوسرا مرحلہ بھی شروع ہو سکتا ہے، اور دوسرا مرحلہ شروع ہونے سے پہلے کچھ دنوں تک ایسا لگ سکتا ہے کہ مریض بہتر ہورہا ہے۔ ان علامات میں درج ذیل باتیں شامل ہیں:
گردن اور ریڑھ کی ہڈّی میں اکڑن، بے ارادہ افعال (جیسے کوئی چیز ہم سے ٹکرانے والی ہو تو روکنے کو ہم ہاتھ بڑھا دیتے ہیں) میں کمی آنا، عضلات میں کمزوری۔
فالجی پولیو
یہ اس بیماری کی بد ترین قِسم ہے لیکن شُکر ہے کہ خال خال ہی ہے۔ اس بیماری کی شروعات بنا فالج پولیو کی طرح ہی ہوتی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مرض کی علامات میں شدّت آتی جاتی ہے۔ جیسے:
• شدید درد
• چھُلنے سے زود حسی
• سُن ہونا یا چبھن کا احساس
• پٹّھوں کا کھچاؤ یا تشنّجُ
• عضلات کی کمزوری سے اعضا کا مفلوج ہوجانا
یوں تو ایک وقت میں کسی بھی دو اعضا پر فالج کا حملہ ہو سکتا ہے۔ لیکن عموماً ایک ٹانگ یا ایک بازو مفلوج ہوجاتے ہیں۔
بیماری کی شدّت کی بنیاد پر دیگر علامات بھی شامل ہو سکتی ہیں مثلاً:
• سانس لینے میں استعمال ہونے والے عضلات کا مفلوج ہونا
• نگلنے میں مشکل ہونا

پولیوکے بعد کی علامات
پولیو کے بعد کچھ نئی علامات کا ظہور ہوتا ہے، یا کچھ مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ ایسا عموماً پولیو ہونے کے کئی دہایئوں کے بعد ہوتا ہے۔ اس کی عام علامات درج ذیل ہیں۔
• بتدریج پٹّھوں اور جوڑوں میں کمزوری اور درد
• تھکاوٹ
• عضلات کا گُھل کر ختم ہونا
• سانس لینے اور نگلنے میں دقّت ہونا
• سوتے میں سانس لینے میں دِقّت یا سانس کا گھُٹنا
• ٹھنڈ کی برداشت کم ہونا

ڈاکٹر کے پاس کب جانا چاہیے
پولیو کی علامات اعصابی نظام کو متاثّر کرنے والی دیگر وائرل بیماریوں سے ملتی جلتی ہیں۔ اس کے لئے بروقت اور درست تشخیص ضروری ہے۔ اگر کسی شخص کو کبھی پہلے پولیو تھا اور اسے کچھ نئی یا بد تر علامات محسوس ہوتی ہیں تو اسے فوراً ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے۔

وجوہات
پولیو ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر ریڑھ کی ہڈّی اور دماغ کی رگوں کے خلیات کو نشانہ بناتا ہے جو پٹّھوں کی حرکت پر اختیار رکھتے ہیں۔ حِسیّات پر اختیار رکھنے والے اعصابی خلیات عام طور پر متاثّر نہیں ہوتے۔
قدرتی طور پر پایا جانے والا پولیو وائرس، جسے بے لگام پولیو وائرس (وائلڈ پولیو وائرس) بھی کہتے ہیں زیادہ تر ممالک سے ختم ہو چکا ہے اور اس کے بہت کم واقعات ہی سامنے آتے ہیں۔ وائرس کی ایک اور قِسم جسے ویکسین سے حاصل کردہ پولیو وائرس (ویکسین ڈیرایوڈ پولیو وائرس یا وی ڈی پی وی) کہا جاتا ہے یہ چھوت کی بیماری ہے اور عالمی سطح پر پولیو کے پھیلنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ وی ڈی پی وی بنیادی طور پر ان چند ممالک میں موجود ہے جہاں ’کمزور پولیو وائرس‘ ویکسین کے قطرے منہ کے ذریعہ دیے جاتے ہیں۔
ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا ویکسین سے بھی بیماری ہو سکتی ہے؟ تواس کا جواب نیچے ہے:
منہ کے ذریعہ لیے جانے والے ویکسین میں (مردہ نہیں بلکہ) کمزور وائرس ہوتا ہے؛ لیکن واضع رہے کہ یہ پولیو کا سبب نہیں بنتا اور ویکسین لگوانے والے افراد شاز و نادر ہی ’وی ڈی پی وی‘ سے متاثّر ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ’وی ڈی پی وی‘ وائرس کی ایک نئی قسم ہے۔ جو ایسے علاقوں میں پھیلتا ہے جہاں لوگوں کی بڑی اکثریت نے ویکسین استعمال نہیں کی ہوئی ہوتی۔
ویسے تو منہ سے لینے والی کمزور وائرس ویکسین بیماری کا باعث نہیں لیکن اس سے بھی پولیو پھیل سکتا ہے۔ اگر ایک علاقے کی اکثریت ویکسین کا استعمال کر چکی ہے تو کمزور وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ویکسین نہ لگے ہونے کی صورت میں کمزور وائرس اس علاقے میں لمبے عرصے تک ڈیرے جما لے گا۔ یوں وائرس کو تبدیل ہونے یا تغیّر پذیر ہونے کا موقع مل سکتاہے۔ یہ بے لگام وائرس کی مانند بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔
اُدھرریاست ہائے متّحدہ امریکہ میں ’وی ڈی پی وی‘ سے چھوت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ہر ایسے واقعہ میں متاثّرہ شخص کو یا تو ویکسین نہیں لگائی گئی تھی، یا اس کا اپنا مدافعتی نظام خاصہ کمزور تھا۔
اب سن 2000 سے ریاست ہائے متّحدہ امریکہ میں پولیو ویکسین کے مرکز نے ایک لنج منج پولیو وائرس، جسے آپ ادھ مرا پولیو وائرس کہہ سکتے ہیں، یہ کمزور سے بھی کہیں زیادہ نحیف ہے، کا انجیکشن بنایا ہے جو ’وی ڈی پی وی‘ کے لئے بالکل خطرہ نہیں بنتا۔
[غیر فعال (ڈی ایکٹیویٹڈ) وائرس تیّار کیا جاتا ہے جو مردہ نہیں ہوتا لیکن اس میں زندگی برائے نام ہوتی ہے تاکہ انسانی بدن کا مدافعتی نظام اس کو شناخت کر سکے۔ بالکل مردہ وائرس شناخت نہیں ہوگا]

پولیو کیسے پھیلتا ہے
پولیو اور دوسرے امراض کے وائرس ہر وقت لوگوں پر حملہ آور رہتے ہیں لیکن وہ لوگوں میں بہتر قوّت مدافعت کی وجہ سے انہیں بیمار نہیں کرتے۔
ایسے لوگ جن میں پولیو وائرس تو ہے لیکن وہ اس کے مریض نہیں ہیں تو وہ وائرس کو لیے لیے گھوم رہے ہیں اور اس کی سواری بنے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اس وائرس کو اپنی چھینک، کھانسی سے جھڑنے والی لعاب کی بوندوں اور اپنے فضلہ سے دوسروں میں منتقل کر سکتے ہیں۔ مثلاً اگر ان سواریوں نے کھانسنے، چھینکنے یا بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد بغیر ہاتھ دھوئے کھانے پینے کی چیزوں کو ہاتھ لگائے تو یہ وائرس پھیل سکتا ہے۔
یہ وائرس گٹر کے پانی سے بھی پھیل سکتا ہے جس میں پولیو وائرس سے متاثّرہ فضلہ ہو سکتا ہے۔ ہم سب واقف ہیں کہ پاکستان کے اکثر شہروں میں تازہ پانی کے ساتھ گٹر کا پانی بھی مل جاتا ہے۔

خطرات
پولیو بنیادی طور پر بچّوں کو متاثّر کرتا ہے، لیکن جو بڑا بھی ویکسین نہیں لگوائے اُس کے اِس بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔


علاج میں دشواریاں
بیماری کی شدّت جب سانس لینا دوبھر کر دیتی ہے تو موت واقع ہو سکتی ہے۔ پھر اس بیماری سے صحتیاب ہونے والے طویل مدّت تک کی پیچیدگیاں بھی بھُگت سکتے ہیں جیسے:
• زندگی بھر کے لیے مفلوج ہونا
• پٹّھوں کے ریشوں کا سکڑنا جس سے ہڈّیاں اور جوڑ ٹیڑھے ہوجاتے ہیں
• دائیمی درد کا ہونا
• پولیو کے بعد کے مسائل

احتیاطی تدابیر
پولیو سے بچنے کا موثر ترین طریقہ ویکسین لگوانا ہی ہے۔
پولیو مرکز بتاتا ہے کہ ویکسین کس کس عمر میں دی جائے گی:
• پہلی 2 ماہ؛ اور دوسری 4 ماہ کی عمر میں
• اس کے بعد 6 اور 18 ماہ کے درمیان
• اور پھر 4 اور 6 سال کی عمر کے درمیان جب بچّے اسکول جانے کی عمر کو پہنچتے ہیں۔
اگر آپ کے ہاں کسی بچّے نے اِن میں سے کوئی ویکسین نہیں لی تو اپنے قریبی مرکزِ صحت سے رجوع کر کے اس خوراک کو پورا کروا لیں۔

بالغ افراد
ایسے بالغ افراد جن کا ارادہ پولیو زدہ جگہ جانے کا ہے، یا جہاں وہ رہتے ہیں وہاں پولیو وائرس پھیلا ہوا ہے تو انہیں ویکسین لگوانی چاہیے۔
اگر آپ نے اپنی ویکسین کا کورس مکمل کر لیا ہے تو بھی آپ ایک مرتبہ کمزور پولیو وائرس ویکسین کا بوسٹر (زائد تلقیح) لگوالیں۔ اگر آپ کو کمزور پولیو ویکسین نہیں لگی ہے، یا کورس (عمل) مکمّل نہیں ہوا تھا، اور یا آپ کو یاد ہی نہیں کہ کبھی لگی تھی تو آپ کو تین خوراکیں لینی ہونگی۔
بالغ افراد ’آئی پی وی‘ کی پہلی خوراک لینے کے ایک سے دو ماہ بعد دوسری خوراک لیں۔ تیسری خوراک دوسری خوراک کے چھ سے 12 ماہ بعد لی جائیگی۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا پولیو ویکسین کا کورس مکمل نہیں ہوا ہے تو مرکزِ صحت سے رجوع کیجیے۔

کیا پولیو ویکسین محفوظ ہے
آئی پی وی کمزور مدافعتی نظام والے افراد کے لئے محفوظ ہے۔ البتّہ یہ علم نہیں کہ شدید کمزور مدافعتی نظام کی صورت میں ویکسین کتنی فعال ہے۔
ویکسین کے ردِ ّعمل میں انجیکشن لگنے والی جگہ پر کچھ عرصہ درد محسوس ہوگا اور جگہ لال ہو سکتی ہے۔
’آئی پی وی‘ سے بعض افراد کو الرجی ہو سکتی ہے کیوں کہ ویکسین میں اینٹی بائیوٹک اسٹرپٹو مائیسین، پولی میکسین بی اور نیو مائیسین کی مقدار بھی ہوتی ہے۔ لہٰذا ان اینٹی بائیوٹک میں سے کسی ایک سے الرجک (الرجائی) افراد میں ردّعمل سامنے آسکتا ہے۔ اس پولیو ویکسین کی اوّلین خوراک سے اگر کسی کو شدید ردِّ عمل ہو تو اسے ویکسین کی مزید خوراک نہیں لینا چاہیے۔
دیکھا گیا ہے الرجک (الرجائی) ردِّ عمل پہلی خوراک لینے کے چند منٹ یا چند گھنٹوں کے اندر ہوتا ہے۔ اس کی علامات درج ذیل ہیں:
• جلد پر سرخ چٹّے پڑنا، کھجلی اور جلد کا پیلا پن
• پست فشارِخون (ہائپو ٹینشن – لو بلڈ پریشر)
• ہوا کی نالی کا تنگ ہونا، زبان اور گلے کی سوجن جس سے خرخراہٹ ہو اور سانس لینا دشوار ہو سکتا ہے
• نبض کا تیز یا ہلکے چلنا
• متلی، قے یا اسہال
• چکّر آنا یا بیہوش ہونا
اگر آپ یا آپ کے بچّوں میں سے کسی کو بھی ویکسین لگنے کے بعد الرجی کی علامات نظر آئیں تو فوراً طبّی امداد حاصل کریں۔
*******
انتباہ: اس مضمون میں جو کچھ بھی بتایا گیا ہے وہ موجودہ اطّلاعات پر مبنی ہے۔ نئی تحقیق کے بعد ہو سکتا ہے کہ بہت کچھ تبدیل ہو جائے۔ بہت ضروری ہے کہ کسی بھی علامت کے ظاہر ہونے پر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اوپر دی گئی معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں علاج کے لیے نہیں۔

-

تبصرہ آپ کا
ﺗﺑﺻره آﭘﮑﺎ