شراب: مزا لوں یا لوں عذاب

شراب: مزا لوں یا لوں عذاب
شراب: مزا لوں یا لوں عذاب
اسلام میں شراب کی ممانعت ہے، اس سے دور رہنے کے لیے اللہ اور اس کے رسول نے سختی سے فرمایا ہے۔ اگر ہم شراب کے حقائق جاننا چاہیں اور تاریخ کے ماخذوں کو کھنگالیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ شراب سب سے پہلے مشرقی یورپ میں کوہِ قاف کے علاقے کے ملک جارجیا میں کوئی 7000 سے 5000 سال ق م پہلے کشید کی جاتی تھی، اس سے پہلے کہیں اور کی جاتی تھی اس کا ابھی تک ثبوت نہیں آیا۔ تب سے ہی انسان ’انگور کی بیٹی‘، یا ہمارے حساب سے ’ام الخبائث‘، کے عشق میں مبتلا رہا۔ ہمیں بارہا تاریخ میں ملتا ہے کہ کوئی کثرتِ شراب نوشی سے یا تو کسی کام کے لائق نہ رہا یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اور ہم اخباروں میں بھی وقتاً فوقتاً شراب کے کارنامے پڑھتے ہی رہتے ہیں۔ برّصغیر میں اس سے متعلق خبروں میں جو سب سے زیادہ خوفناک خبر ہوتی ہے وہ ہے زہریلی شراب پینے سے بینائی ضائع ہوگئی۔ مغربی ممالک میں شراب کھلے عام پی جاتی ہے، اور بعض موقعوں پر تو لنڈھائی جاتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہاں دھت ہونے والے افراد کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ اور وہ لوگ جو روز شراب پی کر دھت ہوجاتے ہیں ان سے لوگ کترانا شروع کردیتے ہیں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں طبّی ماہرین کیا کہتے ہیں، خاص کر مغربی ممالک کے:
لکھتی ہیں لکشمی لٹیمر، ماہر معدہ و آنت، شراب کے شوقین حضرات یہ سچائی سننا ہی نہیں چاہتے کہ شراب ہمارے جسم پر نقصان دہ اثرات مرتّب کرتی ہے، ہمارے دماغ پر، دل پر اور مدافعتی نظام پر۔ ایک معدے اور آنتوں کے ماہر کی حیثیت سے میں تفصیل سے بتا سکتی ہوں کہ الکحل کس طرح نظام ہضم کو تباہ کر سکتی ہے۔ نظام ہضم میں غذائی نالی، معدہ، لبلبہ، جگر اور بڑی آنت شامل ہیں۔ یہاں میں یہ بات بہت تشویش کی بتاتی چلوں کہ آج کل نوجوان شراب کی طرف بڑی تعداد میں راغب ہو رہے ہیں۔ میرے نئے مریضوں میں تیس سال کے لوگ خاصے شامل ہوئے ہیں۔
یوں تو الکحل کسی بھی مقدار میں پی جائے تو وہ معدے کی صحت کو کئی طریقوں سے تباہ کرسکتی ہے، اور نتائج بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔ امریکہ میں چونکہ شراب پینا کوئی بری بات نہیں سمجھا جاتا تو وہاں کے طبیبوں نے ایک معیار دیا ہے کہ کتنی پینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس معیار کے حساب سے 12 اونس بیئر، 5 اونس شراب یا 8 اونس شرابِ شعیرہ (مالٹ) کو ایک دن کی محفوظ خوراک بتایا جاتا ہے۔ غذا کے رہنما اصولوں کے مطابق مرد ایک دن میں اوپر دیے گئے اونسوں کی زیادہ سے زیادہ دو خوراکیں لے سکتے ہیں اور خواتین ایک دن میں ایک خوراک سے زیادہ ان مشروبوں کو ہاتھ نہ لگائیں۔ اس حساب سے مرد ایک ہفتے میں صرف 14 خوراکیں اور خواتین سات سے زیادہ نہیں لیں۔
الکحل اور ہمارا نظام
1. جگر کی بیماریاں: فربہ جگر، جگر میں چربی کے بڑھ جانے سے ایسا ہوتا ہے۔ یہ قابلِ علاج ضرور ہے، البتہ اگر اس پر توّجہ نہ دی جائے تو یہ سوزش کا موجب ہو سکتی ہے۔ فربہ جگر کی دو قسمیں ہیں، ایک کا الکحل سے کوئی تعلق نہیں ہے اور دوسری الکحل کی زیادتی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ان دونوں ہی قسم کی حالتوں میں التہابِ جگر (ہیپاٹائٹس) ممکن ہے۔ لیکن خیال رہے کہ الکحل کی زیادتی کی وجہ سے ہونے والا التہاب جگر بہت بگڑ سکتا ہے۔ اور چلتے رہنے کی صورت میں یہ جگر پر خراشیں چھوڑ سکتا ہے۔ اگر جگر کی سطح پر آنے والی خراشیں، زخم اور بگاڑ ابتر ہوجائیں تو یہ مرض لاعلاج بن سکتا ہے۔ صلابت جگر، یعنی جگر کا چھوٹا اور بے ڈول ہوجانا (انگریزی میں اسے سرہوسس کہتے ہیں)، وجہ بنتی ہے خون میں لوتھڑے بننے کی، یرقان، معدے میں خون رسنے کی اور جگر کے کام چھوڑنے کی۔ یہ طے ہے کہ زخمی جگر اپنا کام مکمل نہیں کر سکتا۔
آپ کا کوئی بھی عضو جس میں مستقل سوزش ہے اس میں سرطان کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اور جگر کے معاملے میں، اگر سوزش چل رہی ہے اور صلابت جگر ہو جاتی ہے، تو جگر کے سرطان کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ اب اگر علاج کی بات کریں تو شدید صلابت جگر اور جگر کے سرطان کے مریض کے جگر کی پیوند کاری کی جا سکتی ہے۔ (لیکن پیوند کاری ایک تو بہت کچھ طبّی مشکلات ساتھ ہوتی ہے اس کے علاوہ اگر آج (2024) لاگت لیں تو کوئی تیس سے پچاس لاکھ پاک روپے چاہیے ہیں) جگر کے سرطان کے دیگر علاج میں مناعتی علاج (انگریزی میں امیونو تھراپی)، شعاع ریزی سے علاج (ریڈی ایشن تھراپی) اور ہدفی ادویہ سے علاج اور کیمیائی علاج شامل ہیں۔
2. سوزشِ لبلبہ: لبلبہ ہاضمے کے خامرے (انزائم) بناتا ہے جو غذا کو توڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ لبلبہ انسولین بھی بناتا ہے جو خون میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھتی ہے۔ الکحل کا استعمال لبلبہ میں سوزش اور زخم کا باعث بنتا ہے۔ سوزشِ لبلبہ قابلِ علاج ہے۔ تاہم، الکحل کا زیادہ استعمال وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی حالت پیدا کر سکتا ہے جو مسلسل یا بار بار سوزش سے زخم کا باعث ہو، اور یہ سوزشِ لبلبہ دائمی بن سکتی ہے؛ اس کے نتیجے میں لبلبہ ٹھیک طور سے کام نہیں کر سکتا۔ دائمی سوزشِ لبلبہ لاعلاج ہوتی ہے۔ علاج شراب نوشی چھوڑنے اور علامات پر توجّہ مرکوز رکھنے میں ہے، جیسے اگر درد ہو رہا ہے تو اس کو ختم کرنے کے لیے دوا دینا۔ اگر لبلبہ خوراک کو توڑنے کے لیے کافی خامرے پیدا نہیں کر رہا ہے، تو مریضوں کو ’لبلبہ خامروں‘ کی گولیاں کھلائی جاتی ہے۔
لبلبے کی (پرانی) سوزش ذیابیطس لا سکتی ہے اور لبلبے کے سرطان کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
3. غذائی نالی کے مسائل: الکحل کا استعمال غذائی نالی (جو نرخرے سے معدے تک دوڑتی ہے) میں بہت سے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ الکحل غذائی نالی کے نچلے حصّہ میں موجود عاصرہ (ایک گول عضلہ جو نالی کو گھیرے ہوئے ہوتا اور بوقتِ ضرورت نالی کو کھل بند کرتا ہے) کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں معدے سے غذائی نالی میں زیادہ تیزاب پہنچ سکتا ہے۔ چونکہ غذائی نالی میں تیزاب سے بچاو کا کوئی انتظام نہیں ہوتا، جیسا کہ معدے میں ایک لعابی جھلّی ہوتی ہے جو تیزاب سے معدے کی حفاظت کرتی ہے، اس لیے یہ تیزاب غذائی نالی میں جلن اور تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ یہ جزرِ تیزاب (ایسڈ رفلیکس) ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جزرِ تیزاب سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے اور سرطان کر سکتا ہے۔
غذائی نالی کے سرطان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک فلسی (چھلکے دار) خلیہ کا سرطان، اس کا تعلّق شراب اور تمباکو نوشی سے ہے۔ اور دوسرا ہے غدودی جھلّی کا سرطان جو شراب کے استعمال سے نہیں ہوتا۔ غذائی نالی کے سرطان کے علاج میں جراہی، شعاع ریزی اور کیمیائی علاج شامل ہیں۔ کل غذائی نالی کے سرطان کے مریضوں میں سے دیکھا گیا ہے کہ صرف 20 فیصد پانچ سال نکال سکتے ہیں۔
4. بڑی آنت کا سرطان: بڑی آنت کے سرطان کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، اور چھوٹی عمر والوں میں بھی اس کی تشخیص ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب لوگوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ 50 کے بجائے 45 کی عمر میں اپنا معائنہ کروائیں۔ بظاہر یہ رجحان طرز زندگی اور ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ الکحل کا استعمال بڑی آنت کے سرطان کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ سرطان سے متعلق رضاکار تنظیمیں شراب سے مکمل پرہیز تجویز کرتی ہیں، لیکن اب بھی جو لوگ کہتے ہیں کہ، چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی، وہ سمجھ لیں کہ ان کے سامنے آنے والا ہر جام انہیں بڑی آنت کے سرطان کی طرف لیے جا رہا ہے۔
5. معدے کی لعابی جھلّی پر سوزش و ورم: اگرچہ الکحل اس سوزش اور ورم کی بنیادی وجہ نہیں ہے، لیکن بہت زیادہ الکحل لعابی جھلی پر براہ راست زہریلا اثر ڈالتی ہے، جو درد اور اپھارہ کا سبب بن سکتا ہے، اور یہ معدے میں ناسور کا باعث بن سکتا ہے۔
شراب کے کم کردینے سے کچھ فائدہ تو ہو سکتا ہے، لیکن یہ بھی درست ہے کہ مستقل اور باقاعدگی سے پینے میں خطرات ہی خطرات ہیں، اور سنگینی بڑھتی ہی جائے گی، علاج مشکل سے مشکل اورمہنگا ہوتا جائے گا۔ لکشمی لٹیمر لکھتی ہیں، ’میں اپنے مریضوں سے یہی کہوں گی کہ شراب سے جتنا دور ہو سکتے ہیں ہوجائیں، اور بند کرنے میں مشکل ہو تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔‘
دیکھا آپ نے کہ مغرب کے ڈاکٹر حضرات شراب کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کو تو پہلے ہی ہدایت آچکی ہے۔ بشکریہ کائزر پرمیننٹے

-

تبصرہ آپ کا
ﺗﺑﺻره آﭘﮑﺎ