نیا سال آیا مبارک مبارک

نیا سال آیا مبارک مبارک
نیا سال آیا مبارک مبارک
یمین الاسلام زبیری
ہمارے لیے سن یا سال جو بھی کہہ لیں ایک جیتی جاگتی شخصیت کی طرح ہوتا ہے۔ جب نیا سال آتا ہے تو ہم اسے بڑے بھرپور انداز میں خوش آمدید کہتے ہیں؛ اور جاتے سال کو تاریخ کے غبار میں گم ہوتا ہوا دیکھتے ہیں، مرتا ہوا، آہستہ آہستہ اس کی نبضیں ڈوب رہی ہیں۔ جس تپاک سے ہم نئے سال کا خیر مقدم کرتے ہیں اتنی ہی شدّت کے جذبات ہم جاتے سال کے لیے نہیں دکھاتے۔ سال کے آخری دنوں میں، آخری دن تک، بلکہ آخری لمحوں تک، ہمارے اندر نئے سال کے آنے کی خوشی کی موج رہتی ہے۔ ابلاغ عامہ والے ضرور گزرے سال کی اچھائیاں برائیاں نشر کرتے ہیں لیکن ان کا مقصد جو بھی ہو سامعین و قارئین کے لیے یہ ایک تصویری کہانی ہی ہوتا ہے، یا گزرے واقعات کی ایک آخری جھلک ایک بار اور دیکھ لینا۔
میں کہوں گا کہ یہ کچھ یوں ہے’امید پر دنیا قائم ہے‘، ہم امیدوں پر زندہ رہنے والی مخلوق ہیں؛ دوسرے، یہ کہاوت بھی سب ہی نے سنی ہوگی ’دور کے ڈھول سہانے‘ شاید اسی وجہ سے ہمیں نیا سال اچھا لگتا ہے کیونکہ ہم ابھی اس سے گزرے کہاں ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ پچھلا سال بھی ہم نے ان ہی امیدوں سے شروع کیا تھا لیکن وہ بھی کچھ اِدھر اُدھر ہو کر اپنے سے پچھلے سال ہی کی طرح رہا تھا۔ انفرادی یا گروہی سطح پر ہم کچھ نہ کچھ پاتے کھوتے تو ہر سال ہی ہیں، لیکن ہر سال انسان مجموعی طور پر بعض معاملات میں یہ ہی بتا رہا ہوتا ہے کہ ہم اپنی خصلت میں جو ہیں اس سے بہتر ہونا ہمارے لیے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ حرص و ہوس لیے جو گزر گئے ہیں تو ویسے ہی لوگ آ بھی رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اچّھے لوگ نہیں پیدا ہورہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اچّھے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن وہ خبر نہیں بنتے شاید اس لیے کہ وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔

ان حسینوں سے کچھ اور ہم سے کچھ لوگ
اس جہاں میں پھر آ کے بسیں گے کل کو
-یمینؔ

سورج مشرق سے نکلتا ہے، اقبالؔ بھی کہہ گئے ہیں ’مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ۔‘ انتہائی مشرق میں جو ممالک ہیں ان میں جاپان سب سے زیادہ ممتاز ملک ہے، اسے سورج کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے، اور اس کا جھنڈا اگر دیکھیں تو لال سورج سفید دھوپ میں خوبصورت لگتا ہے۔ تو سب سے پہلے نئے سال کی پہلی تاریخ کے قابلِ ذکر جشن یہیں سے شروع ہوتے ہیں۔ جب جاپان میں سال کی پہلی تاریخ کا اعلان نصف شب کو ہوتا ہے تو باقی دنیا میں 31 دسمبر ہوتی ہے؛ پاکستان میں اس وقت شام کے آٹھ بجے ہوتے ہیں؛ اور امریکہ کے مغربی کنارے پر ابھی 31 دسمبر کی صبح کے سات بج رہے ہوتے ہیں۔ جاپان سے جشنِ سالِ نو کی تصاویر آنا شروع ہو جاتی ہیں، اس کے بعد زمین کی گردش کے ساتھ ساتھ جہاں جہاں گھڑی 12 بجاتی ہے وہاں وہاں سے جشن کے مناظر نشر ہوتے جاتے ہیں۔ یوں یہ جشن ساری دنیا کا چکّر لگا کر ختم ہوتا ہے، اور بتاتا ہے کہ ساری دنیا کم از کم ایک بات پر تو متفق ہے، اور ایک بات پر تو خوش ہے، وہ ہے نئے سال کی آمد۔

عام طور سے ساری ہی دنیا میں مختلف جشنوں پر شراب پی اور پلائی جاتی ہے، تو پہلی کی شب یوں کیوں گزر جائے، تو خوب لنڈھائی جاتی ہے

مہ کے نشے میں کیوں نہیں ڈوبیں گے آج ہم
بدلا ہے سال کیوں نہیں بھولیں لو آج غم
-یمینؔ

اور بقولِ غالبؔ مئے مشکبو کی ناند چمن میں رکھ دی جائے تاکہ ہر آنے والا پیے اور مست ہو کر

سبزے کو روندتا پھرے پھولوں کو جائے پھاند

غرض سال کے پہلے چوبیس گھنٹوں میں ساری دنیا میں شراب خوب پی جاتی ہے۔

بات ہو رہی ہے جشنِ سال نو کی۔ ہم انسان سارا سال لوگوں کو کبھی خوش اور کبھی غموں میں مبتلا دیکھتے ہیں۔ ہم بالکل کہہ سکتے ہیں کہ خوش تو سب کو ہونا ہی چاہیے ہے، اور غمزدہ کسی کو نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے جملے خوشی پر توّجہ کو کچھ کم کردیتے ہیں۔ فیض احمد فیضؔ جو کہہ گئے ہیں اس کے بعد غم اور خوشی پر کوئی اور کیا کہہ سکتا ہے۔

اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
-فیضؔ

یہاں میں کچھ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہوں گا کہ دُکھ اور غم کے اسباب کئی قسم کے ہوتے ہیں، کبھی قدرتی آفات سبب ہوتی ہیں، تو کبھی حادثات، کبھی اپنی لغزشیں اور کبھی دوسروں کی غلطیاں، لیکن سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کسی انسان کی ہوس سے نقصان پہنچنا۔ صدّیاں گزر گئیں اس دکھ کو جھیلتے ہوئے، افراد سے لے کر ریاستوں تک سب اسی میں مبتلا ملتے ہیں۔ میں گہرائی میں نہیں جائوں گا کہ مجھے ایسی تفصیل دُکھ پہنچائے گی۔ لیکن اتنا کہوں گا کہ اس قسم کے دُکھ پہنچانے والے ذہنی مریض ہوتے ہیں۔ اللہ اپنا رحم کرے، سب کو محفوظ رکھے، آمین۔ مجھے معاف کیجیئے گا میں یہاں ایک اور شعر رقم کروں گا کہ شعر بہت سی بات کم الفاظ میں بتا جاتا ہے۔ اقبالؔ کہتے ہیں:

ابھی تک آدمی صید زبونِ شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے

پہلی تاریخ مشرقی شہروں میں ہویدا ہوکر انہیں ممتاز کرتی ہے۔ اس بار نصف شب کو جب تاریخ پلٹا کھائے گی اور سال 2026 کا اعلان ہورہا ہوگا اس وقت چاند بھی اپنے بامِ عروج کی طرف گام زن ہوگا، اور خوب روشن ہوگا۔ چڑھتے سورج کے پجاری شاید اس پر کوئی توجّہ نہ دیں۔ ان لوگوں کو جنہیں دکھی انسانیت کا غم رہتا ہے گزرے سال کے المیوں کا سوچ کر یہ چاند سوگوار لگے گا۔

لمحے، سال، صدیاں، دن یہ ہم انسانوں کی اختراع ہیں۔ انسانوں کی وقت میں ہمیشہ ہی سے دلچسپی بہت بڑھی ہوئی رہی، اسی لیے ساعت سے لے کر صدی تک کے نام ایجاد کیے۔ یقیناً ایسا کرنے کی کئی حقیقی وجوہات ہوں گی۔ مجھے لگتا ہے کہ پیدائیش اور اموات کے متاثر کن واقعات نے اوّل اوّل انسانوں کو ایسا کرنے پر مجبور کیا ہوگا۔ شمسی تقویم جس کا درست بنا لینا ایک کارنامہ سمجھنا چاہیے صدیوں پہلے مختلف انسانی معاشروں نے یہ بہت درست تیار کرلی تھی۔ قمری سال آسان تھا وہ بھی کوئی تیس ہزار سال سے استعمال میں ہے۔ شمسی و قمری سال میں 12 مہینے بابل والوں نے دیے تھے۔ ہماری اسلامی تقویم بھی بابل کی تقویم سے متاثر ہے۔ قران کریم تقویم کو بہت اہمیّت دیتا ہے۔ اسلام سے پہلے ایک جاہلانا رسم نصی کی تھی جس میں حج کا مہینہ آگے پیچھے کیا جاتا تھا، قران نے اس کی سختی سے ممانعت کی۔ قران میں تقویم کی اہمیّت کو یوں سمجھیں کہ، لکھا ہے، تقویم میں بارہ ماہ اللہ کے دیے ہوئے ہیں (سورہ توبہ)۔
اہلِ روم پہلے دس ماہ کی تقویم استعمال کیا کرتے تھے پھر شاہ نوما پامپیلَئس نے اس میں جنوری اور فروری بڑھا کر بارہ کردی۔ موجودہ شمسی تقویم، جو ساری دنیا میں چلتی ہے، جارجیئن کیلینڈر کہا جاتا ہے کیوں کہ پوپ گریگری سیزدہم 1582 نے اس کے نوک پلک درست کیے تھے۔

کہتے ہیں کہ انسان اپنی موجودہ شکل پر کوئی تین لاکھ سال پہلے آیا تھا۔ ہم نے شروع میں دکھ و الم کا ذکر کیا تھا، لیکن کیا انسان نے کچھ اچّھا بھی کیا؟ جواب ہے کہ ہمیں انسان کی مادّی ترقّی اپنے چاروں طرف پھیلی نظر آتی ہے، خوب اچّھی طرح، لیکن ماننا چاہیے کہ انسان نے روحانی، اخلاقی، قانونی اور تہذیبی ترقّی بھی خوب کی ہے۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب آدم خور گروہوں کا راج تھا؛ اور پھر انسان غلام ہوا کرتے تھے لیکن پھر کچھ سمجھ میں آیا، پھر دورِ غلامی کا خاتمہ ہوا، قانون کا راج آیا، رنگ و نسل کا فرق رکھنا بد تہذیبی میں شمار ہوا، شجرہ نہیں بلکہ ہنر کی قدر ہوئی، اس سارے دور میں کروڑہا قوانین بنے اور قوانین پر عمل کرنے کی اہمیّت اجاگر ہوئی۔ غرض یہ سارا وقت یہ ساری صدیاں بالکل ضائع نہیں گئیں۔ میں یہاں یہ لکھنے سے اپنے آپ کو نہیں روک سکتا کہ مشاہدہ ہے کہ انسانی زندگی میں قانون کی اہمیت آکسیجن سے بھی زیادہ ہے۔ آکسیجن کے بغیر موت ہے، قانون کے بغیر زندگی جہنم۔
ہم نے بات شروع کی تھی نئے سال کی آمد سے۔ نئے سال کی اہمیّت اپنی جگہ ہے۔ اور کیوں نہ ہو! ہر آنے والا سال کروڑوں کو ترقّی کی نوید سناتا ہے؛ روزی روٹی چلتے رہنے کی خبر دیتا ہے؛ ہزاروں کے رزق میں برکت دیتا ہے، طلبہ کو اگلی جماعت میں پہنچاتا ہے؛ بچّوں کو جوان اور جوانوں کو پختہ کار کرتا ہے؛ محنتی لوگوں کا تجربہ بتاتا ہے؛ اور یہ وہ اعداد بناتا ہے کہ لوگ فخر سے کہتے ہیں، ہم نے یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کیے۔

سالِ نو مبارک

-

تبصرہ آپ کا

2026-01-03 07:35:00

ماشاء اللہ بہت خوب

اظفر ناز

2026-01-03 07:45:40

بہت خوب

نگین صدیو

2026-01-11 03:58:06

ﺗﺑﺻره آﭘﮑﺎ